بی جے پی( بھارتیہ جنتا پارٹی)اور آر ایس ایس (راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ) 

بی جے پی( بھارتیہ جنتا پارٹی)اور آر ایس ایس (راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ) 

پچھلی قسط میں آپ کے سامنے بی جے پی کے بارے میں ذکر کیا گیا اور اس جماعت کے کچھ اہم لوگوں کے بارے میں بھی سامنے لایا گیا اور انہی سب باتوں کے ساتھ ایک اور جماعت کا ذکر ہوا تھا جس کا نام  آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) ہے۔

آج اس جماعت کے بارے میں کچھ باتیں ہونی ہیں

آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) یہ جماعت کی اشاعت 27 ستمبر 1925ء کو ناگپور میں ہوئی۔ راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یا آر ایس ایس بھارت کی ایک ہندو تنظیم۔ یہ خود کو قوم پرست تنظیم قرار دیتی ہے ۔اور قوم پرستی کے نام پر فرقہ وارانہ فسادات میں اول ہے ۔ صرف یہی نہیں  ہمارے ملک میں جتنے بھی فسادات ہوے ہیں ان سب میں اسی جماعت کا ہاتھ  ہے ساتھ ہی یہ بھی  دیکھا گیا کہ کئی دہشت گردانہ معاملوں میں اس تنظیم کا ہاتھ رہا ہے ۔

اس جماعت کا بانی کیشوا بلی رام ہیڑگیوار ہے ۔ 2014 تک اس کی رکنیت 50 لاکھ سے 60 لاکھ ہے ۔ ہندو سوائم سیوک سنگھ کے نام سے باہر کی دنیا میں شدت سے سر گرم ہیں اس جماعت کا اصل مقصد ہے کہ ہندتوا کا قیام ہے۔ اور آزادی کے بعد حکومتِ ہند نے تین بار اس تنظیم کو ممنوع کر دیا۔ لیکن مکمل بند نہی کرایا گیا، کانگریس کی سرکار کا ہی نتیجہ ہے اس جماعت کی ترقی میں۔

میں اس وجہ سے کہ رہا ہوں کے ہمارے ملک میں سب سے زیادہ کانگریس نے حکومت کیا اور حاکم ہونے کے بعد اور  اس جماعت کی اصلیت معلوم ہونے بعد کچھ نا کر سکی ۔اور کرنا بھی نہیں چاہتی تھی کہیں نہ کہیں اس جماعت نے وقتا فوقتا کانگریس کو بھی فایدہ پہنچایا ہے اپنے وجود کی خاطر بہر حال۔

اسی جماعت کے ایک رکن نے 1948 میں اس ملک کے پہلے راسٹریہ پیتا کہے جانے والے ے مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا اس رکن کا نام ناتھورام ونائک گوڑسے ہے جو اس دیش کا پہلا دہشت گرد ہے ۔

1969 کو احمد آباد فساد،1971کو تلشیری فساد اور1979 ء کو بہار کے جمشید پور فرقہ وارانہ فساد میں ملوث رہی۔

 6 دسمبر 1992ء کو اس تنظیم کے اراکین (کارسیوک) نے بابری مسجد میں گھس کر اس کو منہدم کر دی۔ اس طرح کے بہت سارے حادثات اس جماعت کے نام ہے چاہے وہ فرقہ واریت کی شکل میں ہو یا اپنے ملک ہندستان سے غداری میں ہو اس تنظیم کا ہر فرد سب سے پیش رہا ہے ۔

درجِ ذیل وطن مخالف سرگرمیوں میں سنگھ پریوار تنظیمیں ملوّث ہیں:

  • مالیگاؤ بم دھماکا
  • حیدرآباد مکہ مسجد بم دھماکا
  • اجمیر بم دھماکا
  • سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکا

یہ تنظیم زعفرانی دہشت گردی کرتی ہے جو لوگوں کو پاگل بنا کر استعمال کر کنارے لگادیتی ہے ۔

اب دیکھتے ہیں کہ بی جے پی سے ان کا کیا تعلق ہے یا بی جے پی والوں کا اس تیظم سے کیا تعلق ہے ۔

سنگھ پریوار : یعنی سنگھ کا خاندان۔ اس خاندان یعنی پریوار کے اراکین تنظیمیں۔ آر ایس ایس کے آدرشوں کے مطابق سرگرم تنظیموں کو عام طور پر سنگھ پریوار کہتے ہیں۔

  1. وشوا ہندو پریشد
  2. بھارتیہ جنتا پارٹی – سنگھ پریوار کی سیاسی تنظیم
  3. ون بندھو پریشد،
  4. راشٹریہ سیوکا سمیتی،
  5. سیوا بھارتی،
  6. اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد – سنگھ پریوار کا اسٹوڈینٹس ونگ
  7. ونواسی کلیان آشرم،
  8. بھارتیہ مزدور سنگھ،
  9. ودیا بھارتی وغیرہ شامل ہیں۔

اس تنظیم نے ہر میدان میں اپنا مکمل ایک شاخ کھول دی ہے انہی شاخوں میں سے بھارتیہ جنتا پارٹی – سنگھ پریوار کی سیاسی تنظیم ہے ۔

واجپئی کی مدد سے ہی ملک میں آر ایس ایس کی جڑیں مضبوط اور پروان چڑھیں

 سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی ہمیشہ آر ایس ایس کے تئیں وفادار بنے رہے۔ ایک بار امریکہ میں انھوں نے خطاب کے دوران کہا کہ وہ بھلے ہی وزیر اعظم ہوں لیکن حقیقت میں آر ایس ایس کارکن ہیں۔

ان کی تقریر کرنے کی صلاحیت، ان کے مذاقیہ انداز اور ان کے لبرل نظریہ کی بہت تعریف کی جاتی ہے لیکن کیا ہم یہ بھول سکتے ہیں کہ انھوں نے زندگی بھر تنگ ذہن ہندو راشٹرواد کے لیے کام کیا۔ بہت کم عمر میں انھوں نے آر ایس ایس کی رکنیت اختیار کی اور ان کی ایک نظم ’ہندو تن من، ہندو جیون‘ بہت مقبول ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان کے لوگ بطور ہندوستانی اپنی پہچان بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انھوں نے آر ایس ایس کے ترجمان ’آرگنائزر‘ میں اپنے سیاسی ایجنڈے پر ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ’سَنگھ اِز مائی سول۔

واجپئی ہمیشہ آر ایس ایس کے تئیں وفادار بنے رہے۔ امریکہ کے اسٹیٹن آئی لینڈ میں بولتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ وہ بھلے ہی وزیر اعظم ہوں لیکن اصل میں آر ایس ایس کارکن ہیں۔ گجرات کے ڈانگ میں عیسائیوں کے خلاف تشدد (1999) کے بعد انھوں نے مذہب تبدیلی پر قومی بحث کا مطالبہ کیا لیکن تشدد متاثرین کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔

Leave a Comment