حج: اسلام کا ایک اہم رکن اور اس کی عظمت و اہمیت
بقلم فہد اسلم
حج کا تعارف اور لغوی و اصطلاحی معنی
حج عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی “قصد کرنا” یا “زیارت کی نیت سے جانا” کے ہیں۔ اصطلاحاً حج سے مراد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ایام میں مکہ مکرمہ جا کر خانہ کعبہ اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کرنا اور وہاں مخصوص عبادات انجام دینا ہے۔
حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
*”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔”* (بخاری: 8)
حج کی فرضیت
حج کی فرضیت کا حکم قرآن مجید میں واضح طور پر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
*”اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو بھی اس گھر تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے، اور جو کوئی انکار کرے تو یقیناً اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔”* (آل عمران: 97)
یہ آیت کریمہ حج کی فرضیت اور اس کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ حج ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔
حج کی تاریخی اہمیت
حج کی تاریخ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے جڑی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ وہ کعبہ کی تعمیر کریں اور لوگوں کو حج کے لیے بلائیں:
*”اور (اے نبیؐ!) لوگوں میں حج کا اعلان کر دو، وہ تمہارے پاس پیدل اور دبلے پتلے اونٹوں پر ہر دور دراز راستے سے آئیں گے۔”* (الحج: 27)
حج کی تمام مناسک درحقیقت حضرت ابراہیم، حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کے واقعات سے جڑے ہوئے ہیں۔ صفا و مروہ کی سعی حضرت ہاجرہ کے پانی کی تلاش کی یادگار ہے، جبکہ رمی جمرات (کنکریاں مارنا) شیطان کو للکارنے کی علامت ہے۔
حج کی اقسام
حج کی تین اقسام ہیں:
- *حج تمتع:* یہ سب سے افضل قسم ہے جس میں عمرہ اور حج دونوں ادا کیے جاتے ہیں۔
- *حج قران:* اس میں عمرہ اور حج ایک ساتھ ادا کیے جاتے ہیں۔
- *حج افراد:* اس میں صرف حج ادا کیا جاتا ہے۔
حج کے ارکان و مناسک
حج کے چند اہم ارکان و مناسک درج ذیل ہیں:
- احرام باندھنا
احرام حج کی نیت سے مخصوص لباس پہننے کو کہتے ہیں۔ مرد دو سفید چادروں سے اور زنانہ عام لباس سے احرام باندھتی ہیں۔ احرام باندھتے وقت تلبیہ پڑھا جاتا ہے:
*”لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک، لا شریک لک”*
)اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بے شک تمام تعریف اور نعمت تیرے لیے ہے اور بادشاہت تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں(
- طواف
خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگانے کو طواف کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو لوگوں کے لیے مرکز بنایا:
*”بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور تمام جہان والوں کے لیے ہدایت ہے۔”* (آل عمران: 96)
- سعی
صفا اور مروہ پہاڑیوں کے درمیان سات چکر لگانے کو سعی کہتے ہیں۔ یہ حضرت ہاجرہ کے پانی کی تلاش کی یادگار ہے۔ قرآن میں اس کا ذکر ہے:
*”بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، سو جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو ان کے درمیان سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔”* (البقرہ: 158)
- وقوف عرفات
9 ذی الحجہ کو عرفات کے میدان میں ٹھہرنا حج کا سب سے اہم رکن ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*”حج عرفات ہے۔”* (ترمذی: 889)
یہاں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔
- رمی جمرات
10 ذی الحجہ سے لے کر 12 یا 13 ذی الحجہ تک منیٰ میں تین جمرات (ستونوں) کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ یہ عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے شیطان کو للکارنے کی یاد دلاتا ہے۔
- قربانی
10 ذی الحجہ کو قربانی کی جاتی ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی قربانی کی یادگار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
*”اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی تاکہ وہ ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں دیے ہیں۔”* (الحج: 34)
7.حلق یا تقصیر
احرام کی حالت ختم کرنے کے لیے بال منڈوانا یا کٹوانا ضروری ہے۔
حج کی فضیلت اور ثواب
حج کے بے شمار فضائل اور ثواب ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*”جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور کوئی فحش بات یا گناہ کا کام نہیں کیا، وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔”* (بخاری: 1521)
ایک اور حدیث میں ہے:
*”عمرہ دوسرے عمرہ کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور (مقبول حج) کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔”* (بخاری: 1773)
حج کے اجتماعی فوائد
حج صرف ایک فرد کی عبادت نہیں بلکہ اس کے بے شمار اجتماعی فوائد ہیں:
- *مسلمانوں کی وحدت:* دنیا بھر کے مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں جو امت مسلمہ کی وحدت کی علامت ہے۔
- *برابری کا سبق:* تمام حجاج ایک جیسا لباس پہنتے ہیں جو انسانی برابری کا درس دیتا ہے۔
- *روحانی تجدید:* حج انسان کے ایمان اور روحانی جذبے کو تازہ کرتا ہے۔
- *ثقافتی تبادلہ:* مختلف ممالک کے مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور تجربات کا تبادلہ کرتے ہیں۔
حج کے لیے شرائط
حج فرض ہونے کے لیے درج ذیل شرائط ہیں:
- *مسلمان ہونا:* غیر مسلم پر حج فرض نہیں۔
- *عاقل و بالغ ہونا:* پاگل اور نابالغ پر حج فرض نہیں۔
- *آزاد ہونا:* غلام پر حج فرض نہیں۔
- *استطاعت رکھنا:* مالی اور جسمانی طور پر حج کی استطاعت ہونا ضروری ہے۔
حج مبرور کی علامات
حج مبرور (مقبول حج) کی کچھ علامات درج ذیل ہیں:
- حج کے بعد گناہوں سے توبہ اور نیک زندگی گزارنا۔
- حج کے بعد عبادات میں اضافہ ہونا۔
- اخلاق و کردار میں بہتری آنا۔
- مال حلال کمانے اور خرچ کرنے کی کوشش کرنا۔
حج کے آداب
حج کے دوران کچھ اہم آداب کا خیال رکھنا چاہیے:
- اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنا اور خلوص نیت رکھنا۔
- گناہوں سے بچنا خصوصاً غیبت، جھوٹ، دھوکہ سے پرہیز کرنا۔
- صبر و تحمل سے کام لینا کیونکہ حج آزمائشوں سے بھرپور سفر ہے۔
- دیگر حجاج کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔
- ضرورت مندوں کی مدد کرنا۔
حج کے دوران کی جانے والی دعائیں
حج کے دوران مختلف مقامات پر مخصوص دعائیں پڑھی جاتی ہیں۔ طواف کے دوران یہ دعا پڑھی جا سکتی ہے:
*”رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ”*
(اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا) (البقرہ: 201)
عرفات میں سب سے بہترین دعا یہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے پڑھی:
*”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ”*
)اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کے لیے تمام تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے(
حج کے بعد کی زندگی
حج کے بعد مسلمان کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں آنی چاہئیں۔ حجاجہ کرام کو چاہیے کہ:
- حج کے روحانی اثرات کو برقرار رکھیں۔
- گناہوں سے مکمل پرہیز کریں۔
- عبادات کو باقاعدگی سے ادا کریں۔
- معاشرے کی اصلاح کے لیے کوشش کریں۔
- حج کے تجربات دوسروں سے شیئر کریں۔
حج اور جدید چیلنجز
آج کے دور میں حج کے سامنے کچھ چیلنجز ہیں جن کا سامنا کرنا ضروری ہے:
- *بھیڑ اور انتظامی مسائل:* لاکھوں حجاج کی بڑی تعداد کے باعث انتظامی مشکلات۔
- تجارتی سرگرمیاں:* بعض لوگ حج کے موقعے کو صرف تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
- *اخلاقی مسائل:* بعض حجاج مناسب آداب کا خیال نہیں رکھتے۔
- *ماحولیاتی مسائل:* بڑی تعداد کے باعث ماحول پر دباؤ۔
ان مسائل کے حل کے لیے منظم منصوبہ بندی، بہتر انتظام، اور حجاج کی تربیت ضروری ہے۔
حج: ایک جامع عبادت
حج درحقیقت ایک جامع عبادت ہے جو انسان کے جسم، مال، وقت اور روح سب کو شامل کرتی ہے۔ یہ عبادت انسان کو اللہ کے سامنے جھکنے، اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرنے، اور رب کے سامنے توبہ کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
*”اور اللہ کے لیے حج اور عمرہ پورا کرو۔”* (البقرہ: 196)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حج کو اللہ کی رضا کے لیے خالصتاً ادا کرنا چاہیے نہ کہ دکھاوے یا دنیاوی فوائد کے لیے۔
نتیجہ
حج اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے جو ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ یہ عبادت نہ صرف فرد کی روحانی تربیت کرتی ہے بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے وحدت، برابری اور اخوت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ حج کے بعد مسلمان کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں آنی چاہئیں اور اسے گناہوں سے پرہیز کرتے ہوئے نیک زندگی گزارنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حج کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے حج کو مقبول بنائے۔ آمین!