تحریکی نعروں کے پیچھے چھپی حقیقت
شيخ عبد المعيد مدنی علی گڑھ
ہندستان میں ایک گھرانہ ایسا ہے جس کے متعلق ہر باخبر انسان کہ سکتا کہ دینی دنیاوی ہر اعتبار سے پورے ملک
سب سے زیادہ نامعقول گھرانا ہےاور وہ ہے سبحانی گھرانہ ۔
اس پورے گھرانے کی تین پشت سعودی عرب کی عنایت سے
پلی بڑھی پڑھی روزی روٹی کا انتظام ہوا ۔لیکن یہ اتنا حرام خور ،محسن کش غلیظ دنیا دار ہے پورا گھرانہ سعودیہ کو گالی دیتا ہے ۔ان کے اندر ذرہ برار شرم حیا اور غیرت نہیں ۔

اخلاق وکردار کا اتناگیا گزراتو سڑک کے غنڈے بھی نہیں ہوں
گے ۔اس گھٹیا پن کے باوجودیہ سڑک چھاپ داعی مفکر انقلابی تحریکی دینی فداکار اور پتا نہیں کیا کیا بنے پھرتے ہیں ۔اگر ان کی تحریکیت انھیں سعودیہ سے ہم آھنگ نہیں کرسکتی تو خاموش رہ سکتے تھے مروت کا تقاضا یہی تھا لیکن جب دیکھو یہ سب اپنےکینہ کے ترکش سےدشمنی کا تیر سعودیہ پر چھوڑتے رہتے ہیں
آخر اتنی بڑی رذالت کی وجہ کیا ہے ؟ میرا تجزیہ تو یہی کہتا ہے ۔ غرور علم عنایت اللہ کا۔ اور اس کے نتیجے میں استخفاف حدیث ،اہانت حدیث اور دھیرے دھیرے باپ بیٹوں کی منزل انکار حدیث۔۔یہ الگ بات ہے فیس سیونگ میں انکار حدیث کےلفظ سے کلبلاییں ۔ویسے تحریکی ماحول جس طرح انھیں اس کے لیے اکساہٹ ملتی ہے ،انکار حدیث سن کر انھیں اندر اندر خوشی ہوتی ہو گی انسان کی نفس پرستانہ نفسیات اسی طرح کی ہوتی ہے ۔جس حقیقیت کے خلاف دل میں گرہ باندہ لیتے اس کے دشمن بن جاتے ہیں ۔علم کے نام پر ان کی جو شوخیاں اور پھکڑ بازیاں چل رہی ہیں ان سے اندزہ ہوتا ہے کہ یہ سب مدر پدر آزاد تھیتھر ہو چکے ہیں انھیں اپنی پھکڑ بازیوں پر بڑا غرور ہے ۔اور تحریکی زیٹیے ان کی ثنا میں خوب تالیاں بجاتے ہیں ۔”پھر حالت یہ ہوتی ہے۔” کلاہ دہقاں بہ افتاب رسید

یہ بات یاد رکھنے کی ہے جب کسی کے اندر غرور علم کےسبب انکار حدیث آجاے پھر اس ضلالت کی وجہ سے حق پرستوں کے خلاف کینہ بھی پال لے ایسی حالت میں انسان کا پھکڑ ہونا طے ہو جاتا ہے کسی انسان کے اندران تینوں میں سے ایک ہی روگ ہو وہی اسے تباہ کرنے کے لیے کافی ہے ۔ یہاں تو تین تین روگ جمع ہیں
سب سے خطرناک تو انکار حدیث کی کفریہ گمراہی ہے
بر صغیر میں لوگ علمی منافقت بھی خوب کرتے ہیں کھل کر علمی اصولوں کے ساتھ نہیں چلیں گے۔بھیی اگر آپ منکر حدیث ہیں تو کھل کر کہیں آپ حدیث نہیں مانتے ۔لوگوں کے دین ایمان سے کیوں کھیلتے ہیں ۔اور جماعت اسلامی کی بحیثیت تنظیم حدیث کے سلسلے میں کویی موقف نہیں
ہے اسی لیے مشاھدین کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے آدھے لوگ منکر حدیث ہیں۔ اور سارے منکرین حدیث کو پالتے ہیں ۔غامدی ،اورراشد شاذ جیسے سانڈوں کو بھی شہ دیتے ہیں ۔انھیں اپنا گردانتے ہیں کویی دینی جماعت کفریات کو پال صرف گمرہی کی طرف لپکے گی۔صراط مستقیم سے ہمیشہ محروم رہے گی ۔
آخر ایک دینی جماعت کی کیا مجبوری ہے کہ اس گمراہ کنبے کو سر آنکھوں پر بٹھا رکھا ہے ۔حشر کے روز پوری
۔جماعت رسول پاک کو کیا منہ دکھایے گی ۔

اسی گھرانے کی مانند دو صاحب اور ہیں ۔سجاد نعمانی اور سلمان ندوی ۔یہ تو ہمیشہ آتش زیر پا رہتے ہیں۔ بر صغیر میں تو یہ دونوں نمونہ بن چکے ہیں ۔
انکی کی بھی تعلیم سعودی عرب میں ہوء ی۔عنایات بھی
خوب بٹوری گییں ۔لیکن نمک حرامی کی یہ حالت ہے کہ سعودیہ کا نام سن کر ان کو مالیخولیا ہونے لگتا ہے ۔خاص کر سلمان کے اگر سارے کارنامے اکٹھا کیے جاییں تو عربوں کو گالی ان کے سارے کارناموں پر بھاری ہوگی اس وقت وہ دنیا
میں سب سے بڑے گالی باز بن چکے ہیں ۔بھٹیار خانے کا ان کو سب سے بڑا ایوارڈ مل سکتا ہے ۔وہ بالکل مالیخولیایی بن چکے ہیں ۔
کتبہ:
شيخ عبد المعيد مدنی علی گڑھ










