مہاراشٹر میں ال انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی نمایاں کار کردگی ریاست میں 125 نشستوں پر کامیاب۔
بقلم فہد اسلم
ال انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ہندوستان کی ایک تسلیم شدہ سیاسی جماعت ہے جو بنیادی طور پہ ائینی حقوقی سماجی انصاف ت تعلیم اور پسماندہ طبقات کے نمائندگی کے لیے جانی جاتی ہے یہ پارٹی جمہوری اور ائینی دائرے میں رہ کر سیاست کرتی ہے ۔
ال انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی انتخابی کردگی اور نتائج
مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات ایم ائی ایم نے 2026 میں مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات میں بہت مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ال انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے مختلف بلدیاتی انتخابات میں 125 نشستیں جیتی ہیں۔
اے ائی ایم ائی ایم نے کئی بلدیاتی مجالس میں مضبوط پوزیشن بنائی ہے اور روایتی پارٹیاں جیسے کانگرس شیو سینا این سی پی سے بہتر مظاہرہ کیا ہے۔
اہم علاقوں میں کے نتائج۔
شولا پور 8 نشستیں جیتی
مالیگاوں 20 نشستیں جیتی
اورنگ آباد 33 نشستیں جیتی
نشستیں جیتی 8 ممبئی
ممبرا 5 نشستیں جیتی
ناگپور 7 نشستیں جیتی
احمد نگر 2 نشستیں جیتی
ناندیڈ 14 نشستیں جیتی
جالنا 5 نشستیں جیتی
چندراپور 1 نشستیں جیتی
دوھلے 10 نشستیں جیتی
اکولا 3 نشستیں جیتی
امراوتی 13 نشستیں جیتی
میڈیا سے گفتگو کرتے ہونے امتیاز جلیل نے کہا کہ پارٹی کو اورنگ آباد من 33 تنستون پر کامیابی ملی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام نے ایک بار پھر مجلس کی قیادت اور پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابی مہم کے دوران ال انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اپنے انداز اور پیغامات کے ذریعے پارٹی کے 2026 مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات میں کارکردگی پر گہرا اثر چھوڑا ۔
ماہرین نے چند اہم نکات زیر نظر کیے ہیں
نمبر ایک گراس روٹ لیول پر سیدھی بات اور ڈور ٹو ڈور رابطہ کرنا اویسی نے اپنی مہم میں گھر گھر اور کمیونٹی جلسوں یعنی ڈور ٹو ڈور اور کمیونٹی اؤٹ رچ کو اہم رکھا جس سے مقامی مسائل جیسے پانی صفائی بنیادی سہولیات اور روزگار کے وعدے براہ راست ووٹرز تک پہنچے ۔
سیاسی تجربہ کاروں کے مطابق ایسی سیدھی رابطے کی حکمت عملی نے ال انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کو روایتی پارٹنوں کے مقابلے میں مضبوط بنایا
نمبر دو مزدور خواتین اور نوجوان ووٹروں کو خاص پیغام
کئی تجربہ کاروں نے مشاہدہ کیا کہ اویسی نے خواتین نوجوان اور مقامی کمیونٹی کے بے خود عوامی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی مہم چلائی جس میں مسلم اوٹ بینک سے اگے بڑھ کر دیگر کمیونٹی وٹروں کی توجہ بھی حاصل کی
روایتی جماعتوں کے خلاف تنقید سیاسی مبصرین کے مطابق اویسی کانگرس سماجوادی پارٹی شِو سینااور این سی پی جیسی روایتی جماعتوں پر سوالات اٹھائے کہ وہ مقامی اور اقلیتی ایشوز پر عملی طور پر کچھ نہیں کر رہے ہیں جس سے ال انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کو ووٹروں کی مایوسی کو اپنی طرف کھینچنے میں مدد ملی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اویسی کے نعروں میں مقامی مسائل اور ائینی حقوق کے مرکزی حیثیت دی گئی تعلیم روزگار اور انصاف یہی ہمارا منشور۔ ہم وعدے نہیں نمائندگی کرتے ہیں۔ ووٹ عزت کے لیے خاموشی کے خلاف ۔مونسپل الیکشن مقامی حق کا الیکشن ڈر کے بغیر دباؤ کے بغیر
ان نعروں کا مقصد ووٹروں کو فرقہ وارانہ سیاست سے ہٹا کر شہری مسائل کی طرف متوجہ کرنا تھا۔
2026کے مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات نے ریاستی سیاست میں ایک نیا موڈ لیا لے لیا ہے ال انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے جس مضبوط انداز میں کامیابی حاصل کی ہے اس کے پیچھے پارٹی صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی کی منظم انتخابی مہم اور واضح سیاسی پیغام کو اہم قرار دیا جا رہا ہے سیاسی مبصرین کے مطابق یہ کامیابی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک طویل منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے
مضبوط قیادت
واضح نظریہ
اور عوامی مسائل پر توجہ
کسی بھی سیاسی جماعت کو کامیابی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے اسد الدین اویسی کی انتخابی حکمت عملی کو سیاسی مبصرین ایک ماسٹر اسٹروک قرار دے رہے ہیں
